Breaking God’s Heart (Urdu Translation)خُدا کی دِل آزاری کرنا

breaking-gods-heart

Breaking God’s Heart (خُدا کی دِل آزاری کرنا)

By: Eric Turner از: ایرک ٹرَنر

مترجم :  ریلیجیس ٹرانسلیشن اینڈ پرنٹنگ سروسز Translation: Religious Translation & Printing Services

 جب ہم یشوعؔ /یسُوع ؔ کی عطا کردہ برکات میں چلتے ہیں، تو اکثر اوقات ہم اپنے آپ کو کلامِ مُقدّس کی برکات سے دُور ہوتا ہُوادیکھتے ہیں ۔ بہت سے مسیحی حضرات اِتوار اور بُدھ کے روز گِرجا گھروں میں جاتے ہیں، اپنے فرائض میں بہت سرگرم ہوتے ہیں اور عموماً اپنی زِندگیاں اُنہی اطوار پر بسر کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ یہوواہؔ( خُداکا نام ) کے نزدیک خُوش آئند ہیں ۔ میَں جو بات اکثر یشوع/ؔیسوعؔ کے اِن سرگرم پیروکاروں سے سُنتا ہُوں وہ یہ ہے کہ اگر چہ وہ ایمان رکھتے ہیں، یہاں تک کہ وہ یہوواہ ؔ ( تراجم میں خُداوند اِستعمال ہُوا ہے)سے مُحبت بھی رکھتے ہیں اورچاہے وہ ہروہ کام کرتے ہیں جو اُنہیں اُنکے کلیسیائی خادمین اور اساتذہ کی جانب سے سِکھائے جاتے ہیں ، تو بھی وہ کِسی حدتک محسوس کرتے ہیں کہ وہ کلامِ مُقدّس میں کئے گئے اُن وعدوں اور خُدا کے ساتھ تعلقات سےجِن پر اُنکا ’’ایمان ‘‘ہے، لاکھوںمیل  دُور ہیں۔میَں نے بارہا ریڈیو اور پُلپٹ سے یہی خُطبات سُنے ہیں ،جو کہ اِسی موضوع کا بیان   کرتےہیں جِنکا آج ہم ذِکر کریں گے ۔ پادری صاحبان اورمذاہب کے تقابلی جائزے کے ماہرین ہمیشہ صبر کا درس دیتے ہُوئے دِکھائی دیتے ہیں اورخُداکے لوگوں سے کہتے ہیں کہ وہ ایمان رکھیں ، یہاں تک کہ اُنہیں ایسا لگے کہ اُنکی دُعاؤں کا جواب نہیں مِل رہا،چاہے اُنہیں کِتنی بھی مُصیبتوں کا سامنا ہی کیوں نہ ہواوریہ کہ اگر اُنہیں ایسا بھی محسوس ہو کہ خُدا نے اُنہیں بھلا دیا ہے۔ جب میں اس طرح کی باتیں سنتا ہوں تو رنجیدہ ہو جاتا ہوں، کیونکہ حقیقتاً اِن تمام مسائل کا ایک آسان حل موجود ہے۔ کیونکہ جب ایک ایماندار کو کلامِ مُقدّس میں درج اُن برکات کا جن کاوعدہ کیا گیا ، تجربہ ہی نہیں ہورہا تو اِسکی بھی وجہ ہے اورایسا ہر گزنہیں کہ یہوواہؔ (خُدا )وعدوں کو بھُول گیا ہو۔ یہاں ہمیں ایک مشکل درپیش ہے، ایماندار واقعی خُدا کے ساتھ گہرے اور قریبی تعلقات اُستوار کرنے کی کوشش کررہے ہیں، لیکن کلیسیائیوں نے ایمانداروں کو دُعا اور پرستش تک ہی محدودکررکھا ہے جو کہ انکے لئے ’’سفیدی پھری ہوئی قبروں ‘‘کی مانند ہے، یہ کلیسیائیں ایمانداروں کی زندگیوں میں کسی بھی طرح سے کوئی حقیقی تبدیلی نہیں لا رہیِں۔

جب میرا سامنا ایسے لوگوں سے ہوتا ہے تو میں اکثر اُن سے یہ سوال پوچھتا ہوں کہ، ’’برکات کہاں سے آتی ہیں؟‘‘تومجھے مختلف جوابات سُننے کو ملتے ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ یشوعؔ/یسوعؔ ہمیں برکات دیتا ہے، کچھ کہتے ہیں کہ‘‘ اچھے مسیحی’’ ہونے سے برکات ملتی ہیں،لیکن زیادہ تر مسیحی یہ نہیں جانتے کہ برکات دراصل آتی کہاں سے ہیں۔ اکثر لوگوں نے تو یہ سوچ رکھا ہے کہ برکات بغیر کسی شرط کے دی جاتی ہیں۔ حالانکہ سچائی یہ نہیں ۔ پادری صاحبان ہر ہفتے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اگرہم ‘‘یسوعؔ کو اپنے دلوں میں جگہ دیں’’ گے تو ہماری زندگیاں  ‘‘راتوں رات ’’ تبدیل ہوجائیں گی۔ لیکن کیا بائبل واقعی ایسا سکھاتی ہے؟ زیادہ تر مسیحی اس بات سے اتفاق کریں گے کہ بائبل مُقدّس ،خالق خُدا کا کلام ہے اور یہ بات% 100سچ ہے،کیونکہ یہ سچی اور لازوال کتاب ہے، لہٰذا میرا اگلا سوال یہ ہے کہ،’’ اگر بائبل مقدس سچی اور لازوال ہے، تو کیوں بے شمار برکات کے وعدے پورے نہیں ہوئے؟ کیا خُدا سو رہا ہے؟ کیا اُس نے اپنے لوگوں کو بُھلا دیا ہے؟ کیا اُس نے اپنے لوگوں سے منہ پھیر لیا ہے؟‘‘ میرے خیال کے مطابق زیادہ سے زیادہ لوگ یہ سوال کررہے ہیں اور یہ سوالات سراسر واجب ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ، کلیسیائی رہنماؤں، خادمین اور اساتذہ کو اِس بات کا ہرگز اندازہ نہیں ہے کہ اُن لوگوں کو کیا جواب دیں جو اُنکے دفاتر میں آکر بے چینی کے عالم میں آنسو بہاتے ہوئے یہ سوال پوچھتے ہیں کہ ‘‘خُدا مجھے برکت کیوں نہیں دیتا؟’’ اِس پیغام میں اُن تمام سوالات کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے اور ایسے ایمانداروں کے اُن سوالا ت کے جوابات دینے کی بھی کوشش کی گئی ہے جنکی اُنہیں اَشد ضرورت ہے۔کیا ہو کہ اگر میں آپ سے کہوں کہ برکات کا حصول بغیر شرط کے نہیں ہوسکتا؟ کیا ہو کہ اگر میں آپ سے کہوں کہ برکات مفت میں نہیں ملتیں؟ کیا ہو جب میں آپ سے کہوں کہ برکات محض‘‘یسوعؔ کو اپنے دل میں دعوت دینے’’  سے نہیں مل سکتیں؟ کیا یہ سب آپ کیلئے ٹھوکر کا باعث ہوگا؟  ہم اِس کے متعلق بات کریں گے کہ برکات دراصل آتی کہاں سے ہیں اور انہیں حاصل کرنے کے لئے ہمیں کیا کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اوّل تو میں بِلاتاخیر یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ نجات ایک مفت تحفہ ہے اور کوئی آدمی اپنے اعمال کے ذریعے فِردوس میں داخل نہیں ہوسکتا۔واضح رہے کہ میَں نجات بذریعہ اعمال کی تعلیم نہیں دے رہا۔ نجات ایمان کے ذریعے فضل سے حاصل کی جاتی ہے اور یہ ایک مفت تحفہ ہے ۔صرف یشوعؔ / یسوعؔ ہی وہ دروازہ ہے جس کے ذریعے ہم آسمان کی بادشاہی میں داخل ہوسکتے ہیں۔ مزید معلومات کیلئے ہمارا پیغام، ’’تماثیل : پوشیدہ بھیدوں کی پہچان ‘‘ ملاحظہ فرمائیے۔ بہر حال ، آج ہم نجات کے متعلق کوئی بات نہیں کرنے والے۔ ہم صرف اُن لوگوں سے مخاطب ہیں جو یشوعؔ / یسوعؔ کو اپنا نجات دہندہ قبول کرچکے ہیں، اِسلئے یہ نجات کا پیغام نہیں۔ یہ پیغام سراسر یہوواہؔ کی اُمت کیلئے ہے اور اِس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہم نجات پانےکے بعدبرکات کو کیسے حاصل کرسکتے ہیں۔ یشوعؔ/یسوعؔ کو اپنا نجات دہندہ ماننا محض پہلا قدم ہے، ایک بار آپ اس سچائی سےواقف ہوجائیں کہ وہ اِس دُنیا کا نجات دہندہ اورہمیں مخلصی دینے والا ہے،پھر اِسکے بعدہمارے لئے کرنے کیلئے اور بھی کام ہیں۔ دیکھئے، یشوعؔ صرف یہ نہیں چاہتا کہ ہم بچ جائیں، وہ چاہتا ہے کہ ہم اُس کی مانند بنیں اور اپنی زندگیوں سے گناہ کو نکال پھینکیں، تاکہ ہم سب روحانی بلوغت حاصل کریں۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم پاک اور چنیدہ لوگ ، مقدس کاہن اور شاہی قوم ہوں ، جویہوواہؔ کے لئے بے عیب اوربے داغ ہو۔وہ چاہتا ہے کہ ہم  ‘‘مسیح کی مانند’’  ہوں۔ اِس پیغام کا پہلا حصہ بنیادی طور پر اِس نقطہ پر زور دیتا ہے کہ درحقیقت برکات آتی کہاں سے ہیں، اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ مقدس کہانت اور شاہی برکات کی کوئی شرائط ہیں یا نہیں۔اگر لوگوں کو یہ بات پتہ ہی نہیں کہ برکات کیسے حاصل کی جائیں، تو وہ اِسی کشمکش میں مبتلارہیں گے، جسکا نتیجہ یہوواہؔ(خُدا) پر ایمان کی کمی ہے۔ اُس نے کئی بیش بہا وعدے کر رکھے ہیں اور جب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ وعدے پورے نہیں ہوئے تو ہم یہ سوچنا شروع کردیتے ہیں کہ شاید وہ ہے ہی نہیں یا پھر اُس نے ہم سے منہ پھیر لیا ہے۔ اگر بائبل مُقدّس واقعی سچا ئی پر مبنی ہے تو ہمارے پاس تمام جوابات موجود ہیں، ہمیں صرف اتنا کرنا ہے کہ مناسب سوالات کریں۔ لہٰذا پھر برکات آتی کہاں سے ہیں؟ زیادہ تر علماء اِس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ بائبل مقدس کے صحائف کے پہلے لفظ کااِظہار، اُس تمام صحیفہ میں عیاں دکھائی دیتا ہے۔

کہا جاتا ہے۔ (The Law of First Mention) ‘‘ نظریۂ اوّل الذکر’’اس نظریہ کو

کلامِ مُقدّس میں لفظ برکت کا پہلی بار ذکر پیدایش12باب میں ہوا ہے۔ پیدایش            4۔12:1  “اور خُداوند نے ابرام سے کہا کہ تُو اپنے وطن اور اپنے ناتے داروں کے بیچ سے اور اپنے باپ کے گھر سے نِکل کر اُس مُلک میں جا جو میَں تُجھے دِکھاؤنگا۔اور میَں تُجھے ایک بڑی قوم بناؤنگا اور برکت دُونگا اور تیرا نام سرفراز کرونگا۔ سو تُو باعثِ برکت ہو!۔ جو تُجھے مُبارک کہیں اُنکو میَں برکت دُونگا اور جو تُجھ پر لعنت کرے اُس پر میَں لعنت کروُنگا اور زمین کے سب قبیلے تیرے وسیلہ سے برکت پائینگے۔سو ابرام خُداوند کے کہنے کے مُطابق چل پڑا اور لُوط اُسکے ساتھ گیا اور ابرام پِچھتّر برس کا تھا جب وہ حاران سے روانہ ہُوا۔” کلامِ مُقدّس کے اِس حصہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ ابرامؔ کی برکت بغیر شرط کے نہیں تھی؛ اس میں ابرام سے عمل کی مانگ کی گئی۔ اُسے وہ ملک چھوڑنا پڑا جہاں وہ رہتا تھا اور اُس ملک میں جانا پڑا جو اُسے دکھایا جانے والا تھا تاکہ برکت حاصل کرے۔ اُس وقت ابرامؔ ، جسکا نامتبدیل کرکے ابرہامؔ  نہیں رکھا گیا تھا، ایک بُت پرست معاشرے میں قیام پذیر تھا۔ اور یہوواہؔ (خُدا)نے اُسے فرمایا کہ ضرور ہے کہ تُو(ابرام) وہاں سے خروج کرے تاکہ اپنی برکت کو حاصل کر سکے۔

بُت پرست اقوام سے نکل کر الگ ہونے اور برکات حاصل کرنے کا یہی موضوع ہمیں کلامِ مُقدّس میں بارہا دکھائی دیتا ہے، جسکا آغاز پیدایش کی کتاب سے ہوکر مکاشفہ کے آخری باب تک نظر آتاہے۔ شرط کے اِسی موضوع کی منظر کشی بائبل مُقدّس کے باقی صحائف میں بھی کی گئی ہے جسکا تبدیل ہونا نامُمکن ہے۔ برکات خُدا کے وہ وعدے ہیں جو متلاشی شخص کے اعمال پر منحصر ہیں جوکہ اُس عہد میں داخل ہوکراپنے لئے ‘‘ کچھ کرنا’’ چاہتا ہے۔ ابرہامؔ اور اُس کی آنے والی نسل سے وعدے کئے گئے اور ضرور تھا کہ اس کی اولاد اُن وعدوں پر چلے۔ ابرہام کا بیٹا اضحاق ؔ جو کہ موعودہ فرزنداور اُس وعدے کو حاصل کرنے والا اگلا شخص تھا۔ اضحاق ؔ سے بات کرتے ہوئے یہوواہؔ نے اُسے فرمایا:  پیدایش26: 2 ۔5   “خُداوند نے اُس پر ظاہِر ہو کر کہا کہ مِصر کو نہ جا بلکہ جو مُلک میَں تُجھے بتاؤں اُس میں رہ ۔ تُو اِسی مُلک میں قیام رکھ اور میَں تیرے ساتھ رہُونگا اور تُجھے برکت بخشونگا کیونکہ میَں تُجھے اور تیری نسل کو یہ سب مُلک دُونگا اور میَں اُس قسم کو جو میَں نے تیرے باپ ابرہام سے کھائی پُورا کرونگا ۔اور میَں تیری اَولاد کو بڑھا کر آسمان کے تاروں کی مانِند کردُونگا اور یہ سب مُلک تیری نسل کودُونگا اور زمین کی سب قومیں تیری نسل کے وسیلہ سے برکت پائینگی ۔ اِسلئے کہ اِبرہام نے میری بات مانی اور میری نصیحت اور میرے حُکموں اور قوانین وآئین پر عمل کیا۔”” یہاں ہم ایک اور پہیلی سلجھتے ہوئے دیکھتے ہیں، ابرہامؔ نے یہوواہؔ کی نصیحت ، احکام ، اور قوانین پر عمل کیا۔ یہی وجہ تھی کہ یہوواہؔ نے ابرہامؔ اور اُسکی نسل کو برکت بخشی۔ یہاں ایک بار پھر، اِس وعدے کے ساتھ شرط ہے، جسکا انحصار ابرہامؔ اور اُسکی نسل کی وفاداری پر تھا۔ اَب جب کہ ہم نے سیاق و سباق کی روشنی میں  ‘‘پیدایش ’’سے کچھ سیکھا  یا  وہ وجہ دریافت کرلی کہ برکات آتی کہاں سے ہیں۔ اب ہم آگے بڑھتے اور دیکھتے ہیں کہ موسیٰؔ سے کئے گئے عہد کی برکات کا انحصار کن شرائط پر تھا۔ جس وقت موسیٰؔ اسرائیلیوں کو تیار کررہا تھا کہ وہ اُس میراث میں پہنچائے جائیں جسکا وعدہ ابرہامؔ اور اُس کی نسل سے کیا گیا ۔لہٰذا یہاں بھی ہمیں وہی مرکزی خیال دکھائی دیتا ہے کہ برکات کا انحصار وفاداری پر ہے۔  اِستِثنا   26:11۔32   “دیکھو میَں آج کے دِن تُمہارے آگے برکت اور لعنت دونوں رکھے دیتا ہُوں ۔ بر کت اُس حال میں جب تُم خُداوند اپنے خُدا کے حُکموں کو جو آج میں تُم کو دیتا ہُوں مانو۔اور لعنت اُس وقت جب تُم خُداوند اپنے خُدا کی فرمانبرداری نہ کرو اور اُس راہ کو جِسکی بابت میں آج تُم کو حُکم دیتا ہُوں چھوڑ کر اَور معبُودوں کی پیروی کرو جِن سے تُم اَب تک واقِف نہیں۔اور جب خُداوند تیرا خُدا تُجھ کو اُس مُلک میں جِس پر قبضہ کرنے کو تُو جارہا ہے پُہنچا دے تو کوہِ گرِزِیم پر سے برکت اور کوہِ عیبال پر سے لعنت سُنانا ۔ وہ دونوں پہاڑ یردنؔ پار مغرِب کی طرف اُن کنعانیوں کے مُلک میں واقع ہیں جو جِلجال کے مُقابِل مورہ کے بلُوطوں کے قریب میدان میں رہتے ہیں ۔ اور تُم یردن پار اِسی لئے جانے کو ہوکہ اُس مُلک پر جو خُداوند تُمہارا خُدا تُم کو دیتا ہے قبضہ کرو اور تُم اُس پر قبضہ کروگے بھی اور اُسی میں بسو گے۔ سو تُم اِحتیاط کر کے اُن سب آئین اور احکام پر عمل کرنا جِنکو مےَں آج تُمہارے سامنے پیش کرتا ہُوں۔”

ایک مرتبہ پھر ہمیں یہاں ایک ایسا عہد اور وعدہ دکھائی دیتا ہے جسکے ساتھ شرط ہے۔ اگر وہ یہوواہؔ(خُدا)کے احکام کو مانتے تو اُنہیں برکت دی جاتی اور اگر حکم عدولی کرتے تو ملعون ٹھہرتے۔ لہٰذاہم بھی اپنے بچوں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں۔اگر وہ ہمارا کہا مانتے ہیں،تو ہم اُنہیں برکت دیتے ہیں اور اگر وہ ہماری نافرمانی کرتے ہیں تو ہم اُنہیں بُرا بھلا کہتے یا اُنہیں سزا دیتے ہیں۔ جب تک کہ وہ فرمانبرداری کرنا نہ سیکھ لیں۔ یہ ہماری مرضی ہے کہ آیا ہم برکت لیتے ہیں یا نہیں۔اکثر مسیحی اس بات سے متفق ہونگے کہ وہ عہد جوکوہِ سیناؔ پر باندھا گیا اُس کے نظام کی بنیاد برکات اور لعنتوں دونوں پر رکھی گئی، اوروہ بات جس پرزیا دہ تر لوگ رضامند نہیں ہونگے یہ ہے کہ یہی نظام عہدِ تجدید میں بھی جاری رہاجسکا درمیانی یشوعؔ / یسوعؔ ہے۔اَب ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ عہدِ تجدید کیونکر باندھا گیا۔ میں زیادہ تفصیل میں نہیں جاؤں گا، لیکن کچھ مضامین پر روشنی ضرور ڈالونگا کہ یہ نیا عہد کیوں کر باندھا گیا۔ اِس مضمون پر عمیق تعلیم حاصل کرنے

” یا پھر جم سٹیلیؔ کا خطبہ بنام “شناختی بحران” “The Lost Sheep”کیلئے119 منسٹریز کا مضمون بنام “کھوئی ہوئی بھیڑ

ملاحظہ فرمائیے۔ لیکن بنیادی معلومات کیلئے آئیے ہم اُن وجوہات پر غور کرتے ہیں جنکی بدولت عہدِ تجدید کی ضرورت پیش آئی۔ سلیمانؔ کی وفات کے بعدبنی اِسرائیل ؔ میں خانہ جنگی شروع ہوگئی ،یہ لڑائی دس قبائل پر مشتمل شمالی سلطنت اسرائیل ؔ جسکا داراُلخلافہ سامریہؔ تھا اوردو قبائل پر مشتمل یہوداہؔ کے گھرانے جو کہ جنوبی سلطنت کہلاتا تھا اور جسکا کا داراُلخلافہ یروشلیمؔ تھا، کے مابین تھی۔اس لڑائی کی وجہ عبادت کی جگہ اور اوقات تھے۔ (1۔ سلاطین12: 1 ۔16 ؛

1۔ سلاطین12:12۔20؛   1۔ سلاطین14: 21 ۔31) شمالی سلطنت یعنی اسرائیلؔ کے گھرانے نے یہ خیال کیا کہ وہ جگہ جہاں عبادت کی جائے بیت ایل ؔ ؔ ہے ، جوکہ سامریہؔ میں ہے ۔ جنوبی سلطنت جہاں ہیکل واقع تھی ،اُنکا کہنا یہ تھا کہ یروشلیمؔ وہ جگہ ہے جہاں عبادت کی جانی چاہیے۔ شمالی سلطنت نے یہوواہؔ کے اُن احکام سے سرکشی کی جو اُس نے داؤدؔ بادشاہ دئیے تھے کہ یروشلیم ؔ کو جائیں۔ اور انسان کے بنائے ہوئے نظام کو رائج کرلیا، عبادت کا ایک ایسا نظام جس میں انہوں نے بُت پرستی کو یہوواہؔ کی پرستش کے ساتھ خلط ملط کردیا

(2۔ سلاطین17) ۔ یہوواہ ؔ (خُدا) نے اسرائیل ؔ کے گھرانے کی طرف انبیا کو بھیجا تاکہ وہ انہیں توبہ کی دعوت دیں۔ لیکن اسرائیل ؔ کا گھرانہ منحرف ہوگیا اور یہوواہؔ نے اُنہیں اُن کی روحانی حرامکاریوں کی وجہ سے طلاق نامہ لکھ دیا۔  یرمیاہ3: 1۔8  “کہتے ہیں کہ اگر کو ئی مرد اپنی بیوی کو طلاق دیدے اور وہ اُسکے ہاں سے جا کر کِسی دُوسرے مرد کی ہو جائے تو کیا وہ پہلا پھِر اُسکے پاس جائیگا ؟ کیا وہ زمین نہایت ناپاک نہ ہوگی؟ لیکن تُو نے تو بہت سے یاروں کے ساتھ بدکاری کی ہے ۔ کیا اَب بھی تُو میری طرف پھِر یگی ؟ خُداوند فرماتا ہے۔ پہاڑوں کی طرف اپنی آنکھیں اُٹھا اور دیکھ کَونسی جگہ ہے جہاں تُو نے بدکاری نہیں کی ؟ تُو راہ میں اُنکے لئے اِس طرح بیٹھی جِس طرح بیابان میں عرب ۔ تُو نے اپنی بدکاری اور شرارت سے زمین کو ناپاک کےِا۔اِسلئے بارِش نہیں ہوتی اور آخری برسات نہیں ہُوئی ۔ تیری پیشانی فاحِشہ کی ہے اور تُجھ کو شرم نہیں آتی ۔ کیا تُو اَب سے مُجھے پُکار کر نہ کہیگی اَے میرے  باپ! تُو میری جوانی کا راہبر تھا؟ کیا اُسکا قہر ہمیشہ رہیگا؟ کیا وہ اُسے اَبد تک رکھ چھوڑیگا ؟ دیکھ تُو ایسی باتیں تو کہہ چُکی لیکن جہاں تک تُجھ سے ہوسکا تُو نے بُرے کا م کئے ۔ اور یُوسیاہؔ بادشاہ کے ایاّم میں خُداوند نے مُجھ سے فرمایا کیا تُو نے دیکھا برگشتہ اِسرائیلؔ نے کیا کیاہے؟ وہ ہر ایک اُونچے پہاڑ پر اور ہر ایک ہرے درخت کے نیچے گئی اور وہاں بدکاری کی اور جب وہ یہ سب کُچھ کر چُکی تو میَں نے کہا وہ میری طرف واپس آئیگی پر وہ نہ آئی اور اُسکی بیوفا بہن یہُوداہ ؔ نے یہ حال دیکھا ۔ پھر میَں نے دیکھا کہ جب برگشتہ اِسرائیلؔ کی زِنا کاری کے سبب سے میَں نے اُسکو طلاق دیدی اور اُسے طلاق نامہ لِکھ دِیا توَ بھی اُسکی بیوفا بہن یہُوداہؔ نہ ڈری بلکہ اُس نے بھی جا کر بدکاری کی۔” یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ یہوواہؔ نے اسرائیلؔ کے گھرانے کو طلاقنامہ لکھ دیا، یہوواہؔ کی شریعت / توریت کے مطابق اسرائیلؔ خُدا کے پاس واپس نہیں آسکتی، کیونکہ وہ طلاق یافتہ تھی اور اُس نے کسی اور سے شادی کرلی تھی ۔ اِستِثنا 24: 1۔4  “اگر کوئی مرد کِسی عورت سے بیاہ کرے اور پیچھے اُس میں کوئی اَیسی بیہُودہ بات پائے جِس سے اُس عورت کی طرف اُسکی اِلتِفات نہ رہے تو وہ اُسکا طلاق نامہ لِکھ کر اُسکے حوالہ کرے اور اُسے اپنے گھر سے نِکال دے۔ اور جب وہ اُسکے گھر سے نِکل جائے تو وہ دُوسرے مرد کی ہو سکتی ہے ۔پر اگر دُوسرا شوہر بھی اُس سے ناخُوش رہے اور اُسکا طلاق نامہ لِکھ کر اُسکے حوالہ کرے اور اُسے اپنے گھر سے نِکال دے یا وہ دُوسرا شوہر جِس نے اُس سے بیاہ کِیا ہو مَر جائے ۔ تو اُسکا پہلا شوہر جِس نے اُسے نِکال دِیا تھا اُس عورت کے ناپاک ہوجانے کے بعد پِھر اُس سے بیاہ نہ کرنے پائے کیونکہ اَیسا کام خُداوند کے نزدِیک مکُروہ ہے ۔ سو تُو اُس مُلک کو جِسے خُداوند تیرا خُدا میراث کے طور پر تُجھ کو دیتا ہے گنہگار نہ بنانا۔” اسرائیل ؔ کے اِس مکروہ فعل کی وجہ سے یہوواہ ؔ اُس سے دوبارہ شادی نہیں کرسکتا تھا ۔ اس سبب سے یہوداہؔ جسے کوئی طلاقنامہ نہیں دیا گیااُسے بھی ایک مشکل کا سامنا تھا ۔بائبل مُقدّس کے تمام تر انبیا ء نے اُس دن کی پیشگوئی کی جب اسرائیلؔ کا گھرانہ یہوواہؔ کے ساتھ ایک تجدید شدہ عہد کے ذریعہ دوبارہ بحال کیا جائیگا۔ شر یعت کے اساتذہ اور پاسبان اس بات کو نہیں جان پائے کہ ایسا کیونکر ممکن ہے ،

کیونکہ اسرائیل کا یہوواہؔ سے دوبارہ شادی کرنے کا ایک ہی طریقہ تھا اور وہ یہ تھا کہ عہد کا خاوند یہوواہؔ(خُدا)انتقال کر جائے۔ہم سب جانتے ہیں کہ یہوواہؔ ابدی ہے اور موت کا اُس پر کوئی اختیار نہیں۔یہ بات قدیم و جدید یہودیت (یہوداہ ؔ کے گھرانے) کیلئے ایک بڑا بھیدرہا ہے۔ رّبی اور شریعت کے عالم اِس بات کا پتہ نہیں لگا پائے کہ یہوواہؔ کس طرح اسرائیل ؔ کے گھرانے کو نجات دیگا۔اِس کیلئےیہوواہؔ(خُدا)کو مرنا تھاتاکہ وہ اسرائیلؔ کے گھرانے کو حرامکاری کی اُس سزاسے چھڑا سکے جسکا بیان استثنا24 میں کیا گیا ہے۔کیونکہ یہوواہؔ (خُدا) اپنے قوانین نہیں توڑ سکتا ورنہ وہ گنہگار ٹھہرتا 1۔ یوحنا3: 4۔  لہٰذا اسرائیلؔ کس طرح نجات پا کر تجدید شدہ عہد میں شامل ہوسکتا تھا؟ آئیے پہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ عہدِ تجدید کس کے ساتھ باندھا گیا۔ یرمیاہ31:31۔34  “دیکھ وہ دِن آتے ہیں خُداوند فرماتا ہے جب میَں اِسرائیل ؔ کے گھرانے اور یہوداہؔ کے گھرانے کے ساتھ نیا عہد باندھونگا ۔اُس عہد کے مُطابق نہیں جو میَں نے اُنکے باپ دادا سے کِیا جب میَں نے اُنکی دستگیری کی تاکہ اُنکو مُلکِ مِصر سے نِکال لاؤں اور اُنہوں نے میرے اُس عہد کو توڑا اگر چہ میَں اُنکا مالِک تھا خُداوند فرماتا ہے ۔بلکہ یہ وہ عہد ہے جو میَں اُن دِنوں کے بعد اِسرائیلؔ کے گھرانے سے باندھونگا ۔ خُداوند فرماتا ہے میَں اپنی شرِیعت اُنکے باطن میں رکھُونگا اور اُنکے دِ ل پر اُسے لِکھُونگا اور میَں اُنکا خُدا ہُونگا اور وہ میرے لوگ ہونگے ۔ اور وہ پھر اپنے اپنے پڑوسی اور اپنے اپنے بھائی کو یہ کہہ کر تعلیم نہیں دینگے کہ خُداوند کو پہچانو کیونکہ چھوٹے سے بڑے تک وہ سب مُجھے جانینگے خُداوند فرماتا ہے اِسلئے کہ میَں اُنکی بد کِرداری کو بخش دُونگا اور اُنکے گُناہ کو یاد نہ کرُونگا ۔” یہ تجدید شدہ عہد اسرائیلؔ اور یہوداہ ؔ کے گھرانوں کے ساتھ باندھا جانے والا تھا۔ کیا اسکا مطلب یہ ہے کہ یہوداہ ؔ کو بھی نجات کیضرورت تھی؟ جی ہاں! ہم کچھ دیر میں اس بارے میں بات کریں گے، لیکن پہلے دیکھتے ہیں کہ یہوواہؔ نے اپنی شریعت توڑے بغیرکس طرح اسرائیل کے طلا ق یافتہ گھرانے کو نجات بخشی۔ یہاں یہ معاملہ کچھ اُلجھ جاتا ہے، یہوواہؔ کے پاس پہلے سے ہی منصوبہ موجود تھا، لیکن یہوواہؔ ہے کون؟ ہم جانتے ہیں کہ یشوع /یسوعؔ انسان تھا ، تاہم وہ مکمل خُدا بھی تھا۔وہ تراجم جنکا ہم مطالعہ کرتے ہیں

استعمال کیا گیا ہے، وہاں اصل متن عبرانی میں L-O-R-D کہتے ہیں ۔ انگریزی تراجم میں جہاں کہیں LORDاُسے خُداوند یہوواہؔ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ خُداوند اُس کا نام نہیں یہ محض لقب ہے ۔ لہٰذا اگر یشوع/یسوعؔ خُداوند ہے تو پھر وہ یہوواہؔ بھی   ہے۔ اِس موضوع پر مزید معلومات کیلئے، برائے مہربانی ہمارا پیغام بنام “یشوعؔ کی الوہیت(دی ڈِئیٹی اآف یشوع)” از سٹیون گارنرؔ ، اور ہماری تعلیم “شریعت کا دینے والا(گیِور آف دا ٹوراہ)” ملاحظہ فرمایئے۔

زیادہ تر مسیحی حضرات کو اس بات سے کوئی مظائقہ نہیں ، لیکن اس بات کو سمجھنے میں ناکام ہوجاتے کہ ’’پرانے عہد نامہ‘‘ کا خُدا، جسکا نام یہوواہؔ ہے وہی’’ نئے عہد نامہ ‘‘ کا یشوعؔ / یسوعؔ ہے۔ وہ دونوں برابراور ایک ہی ہیں ،جیسا کہ عبرانی میں ہم لفظ ’’اِخاد‘‘ استعمال کرتے ہیں جس کا مطلب ہے ایک مگر مرکب، اِسکی مثال ایک جماعت یا خاندان کے طور پر دی جاسکتی ہے۔ جہاں اراکین تو بہت ہیں لیکن وجود ایک ہی ہے، ایک اور موضوع جو کہ بارہا صحائف میں دکھائی دیتا ہے۔ جسے پولُسؔ رسول اور یشوعؔ/ یسوعؔ سہی طورپر ہم تک پہنچاتے ہیں۔ لہٰذا ، جب آپ ’’پرانے عہد نامے‘‘ کے قِصوں کا مطالعہ کرتے ہیں ، اور وہاں یہ بیان ہو کہ ‘‘خُداوند ’’ نے یہ کیا یا وہ کیا، تو جان لیجیے کہ وہ یشوعؔ /یسوعؔ ہی تھا نہ کہ خُدا باپ۔ وہ ہی یہوداہؔ کے گھرانے اور اسرائیلؔ کے گھرانے کا خاوند تھا۔ جب اُس نے اسرائیلؔ کے گھرانے کو طلاق دے دی ، تو اُنہیں دوبارہ عہد میں شامل کرنے کیلئے اُس کا مرنا ضروری تھا۔ پولُس ؔ رسول بیان فرماتے ہیں۔ رومِیوں7 :1۔4  ” اَے بھائیو! کیا تُم یہ نہیں جانتے ( میں اُن سے کہتا ہُوں جو شرِیعت سے واقف ہیں)کہ جب تک آدمی جِیتا ہے اُسی وقت تک شرِیعت اُس پر اِختیار رکھتی ہے ؟ چُنانچہ جِس عورت کا شوہر موجُود ہے وہ شرِیعت کے مُوافق اپنے شوہرکی زِندگی تک اُسکے بند میں ہے لیکن اگر شوہر مَر گیا تو وہ شوہر کی شرِیعت سے چھُوٹ گئی ۔ پس اگر شوہر کے جیتے جی دُوسرے مرد کی ہوجائے تو زانِیہ کہلائیگی لیکن اگر شوہر مَر جائے تو وہ اُس شرِیعت سے آزاد ہے ۔ یہاں تک کہ اگر دُوسرے مرد کی ہو بھی جائے تو زانِیہ نہ ٹھہریگی

پس اَے میرے بھائیو! تُم بھی مسیح کے بدن کے وسیلہ سے شریعت کے اعتبار سے اِسلئے مُردہ بن گئے کہ اُس دُوسرے کے ہو جاؤ جومردوں میں سے جِلایا گیا تا کہ ہم سب خُدا کے لئے پھل پَید ا کریں۔”

یہ محبت کی ایک ایسی عظیم داستان ہے جو کہ پہلے کبھی بیان نہیں کی گئی۔ یہوواہؔ / یشوعؔ / یسوعؔ اِس واسطے مجسم ہوا، مؤا اور مُردوں میں سے جی اُٹھا تاکہ اسرائیلؔ کے ساتھ اُس کا دوبارہ ملاپ ہوسکے۔ یہ ایک بے غرض اور بے حدپیار بھر اعمل ہے جو کہ کوئی الہٰ ، فرشتہ ، انسان یا کوئی اور ذی نفس نہیں کرسکتاکہ وہ اُن کی خاطر جن سے اُسے محبت ہے اپنی جان تک دیدے ۔

اب، یہ بات دورِ حاضر کے مسیحیوں کیلئے کیوں ضروری ہے؟ کیا ہو اگر میں آپ سے یہ کہوں کہ آپ محض “غیر قوم مسیحی” ہونے کیلئے نہیں بلائے گئے ؟ کیونکہ کلامِ مُقدّس میں اس طرح کی کوئی بات بیان نہیں کی گئی۔ بلکہ آپ اسلئے بلائے گئے ہیں تاکہ آپ نجات پاکر آسمان اور زمین کے خالق کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھ جائیں اوربُت پرست غیر اقوام سے الگ ہو کر ایک پاک اور الگ زندگی بسر کریں، بالکل ویسے ہی جیسے ابرہامؔ اُورؔ کی بُت پرستانہ رسُومات سے چُن لیا گیا۔ ایسے ہی ہم بھی غیر اقوام کی اِن بُت پرستانہ رسُومات سے الگ کر لئے گئے ہیں۔ ہم محض ایک غیر قوم کی طرح زندگی نہیں گزار سکتے۔ یہ بات مجھے اُسی پرانے سوال کی طرف لے جاتی ہے کہ میں عہدِ تجدید کے ماتحت رہ کر “اپنی اُن برکات کو کیوں نہیں حاصل کر پارہاجِنکا مُجھ سے وعدہ کیا گیا؟” ہمیں دھوکے سے یہ سکھایا جارہا ہے کہ برکات کے ساتھ کوئی شرط وابستہ ہے ہی نہیں اور ہم محض یشوعؔ / یسوعؔ پر پختہ ایمان رکھ سکتے ہیں، لیکن بائبل مُقدّس میں اِن خیالات کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ہاں ! ہم ایسا ضرور کر سکتے ہیں کہ بغیر سیاق و سباق کے ایک صحیفہ اُٹھائیں اور اِس طر ح کے نظریات کو پیش کردیں۔ لیکن جب ہم سیاق و سباق کی روشنی میں بائبل مُقدّس کامطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں ایسا کوئی وعدہ نہیں ملتا جس میں بغیر شرط کے برکات کا ذکر ہو۔ہمیں یہ وعدہ تو ضرور ملتا ہے کہ نجات ایک مفت تحفہ ہے،لیکن بغیر شرط کے برکات کو حاصل کرنے کے کوئی وعدے نہیں ملتے۔ ہم پہلے ہی یرمیاہؔ نبی کے صحیفہ سے اس بات کو سیکھ چکے ہیں کہ نیا عہد اسرائیلؔ اور یہوداہؔ کے گھرانے سے باندھا گیا ، وہاں ہمیں کسی ایسے وعدے کا بیان نہیں ملتا جس میں یہوواہؔ (خُدا) نے غیر اقوام یا کسی اور سے عہد کیا ہو اور نہ ہی کوئی اورعہد ملتا ہے جو صرف یہودی قوم( یہوداہؔ کے گھرانے) کے ساتھ باندھا گیا ہو۔ ہم یہ بھی پڑھتے ہیں کہ اِس عہد میں یہوواہؔ کی شریعت/توریت ہمارے دلوں پر لکھی جائیگی۔ اِس سے پہلے کہ میں مزید آگے بڑھوں مجھے اجازت دیجیے کہ میں سب کو یاد دِلا سکوں کہ یہوواہؔ جو کہ ’’پرانے عہدنامہ‘‘ کا خُدا ہے وہی ’’نئے عہد نامہ‘‘ کا یشوعؔ / یسوعؔ ہے۔ وہ الُوہیت کی الگ الگ ہستیاں نہیں ، بلکہ ایک ہی ذات ہیں۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ کوہِ سیناؔ پر دی جانے والی توریت/شریعت/ احکام کا دینے والا یشوع ؔ / یسوع ؔ ہی تھا ،  یہ توریت/ شریعت/ احکام، اسرائیلؔ کے12قبائل سمیت اُن اجنبی/ مخلوط النسل /غیر اقوام کو بھی دیئے گئے جنہوں نے مصر ؔ کو خیر باد کہا۔ایک مرتبہ پھر ہماری تعلیم “شریعت کادینے والا (گیِور آف ٹوراہ)” ملاحظہ فرمائیے۔ بہت سے مسیحی یہ سمجھتے اور یہی سکھاتے ہیں کہ وہ ’’پرانے احکام‘‘ باپ کی طرف سے دیئے گئے ، اور اب ہم صرف ’’یسوعؔ ہی کی شریعت‘‘ کے ماتحت ہیں۔ نہ تو ایسا کبھی ہوا اور نہ ہی ہوسکتا ہے کہ کوئی نئی توریت / شریعت / احکام رائج ہوں ۔ یرمیاہ31کے مطابق وہ توریت/ شریعت جو سیناؔ پہ دی گئی وہی نیا عہد ہے۔ اور جیسا کہ ہم ’’نئے عہد نامہ‘‘کے اگلے چند حصوں میں دیکھیں گے کہ یشوعؔ /یسوع ؔ اور رسولوں نے بھی اسی بات کی تصدیق کی۔

متّی 5: 17۔20   ” یہ نہ سمجھو کہ میں تو ریت یا نبیوں کی کِتابوں کو منسُوخ کرنے آیا ہُوں ، منسُوخ کرنے نہیں بلکہ پُورا کرنے آیا ہُوں۔ کیونکہ میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نُقطہ یاایک شوشہ تو ریت سے ہر گز نہ ٹلیگا جب تک سب کُچھ پُورا نہ ہوجائے ۔ پس جو کوئی اِن چھوٹے سے چھوٹے حُکموں میں سے بھی کِسی کو توڑیگا اور یہی آدمِیوں کو سِکھائیگا وہ آسمان کی باشاہی میں سب سے چھوٹا کہلائیگا لیکن جو اُن پر عمل کریگا اور اُنکی تعلیم دیگا وہ آسمان کی بادشاہی میں بڑا کہلائیگا ۔ کیونکہ میں تُم سے کہتا ہُوں کہ اگر تُمہاری راستبازی فقیہوں اور فریسیوں کی راستبازی سے زیادہ نہ ہوگی تو تُم آسمان کی بادشاہی میں ہر گِز داخل نہ ہوگے۔” یشوعؔ /یسوعؔ نئے یا تجدید شدہ عہد کے ساتھ شرائط کا مطالبہ کرتا ہے۔ غور کیجئے وہ بہت سی ایسی باتیں کہتا ہے جنکا ذکر میں پہلے ہی کرچکاہوں کہ “پرانا ”  یا گیا گذراتو کچھ ہے ہی نہیں اوراِس عہد کے ساتھ شرائط بھی لاگوہوتی ہیں۔ہر کوئی جو چھوٹے سے چھوٹے حکم کے خلاف بھی سکھائے گا، وہ بادشاہی میں سب سے چھوٹا کہلائے گالیکن وہ جو اِنکی تعلیم دیگا اور اُن کی پیروی کریگا وہ بڑا کہلائے گا۔ لیکن آیت نمبر 20پر غور کیجئے (کیونکہ میں تُم سے کہتا ہُوں کہ اگر تُمہاری راستبازی فقیہوں اور فریسیوں کی راستبازی سے زیادہ نہ ہوگی تو تُم آسمان کی بادشاہی میں ہر گِز داخل نہ ہوگے۔) اگر محض یشوعؔ /یسوعؔ کے توریت/ شریعت پورا کرنے سے راستبازی پوری ہوتی تو پھر تو کوئی مسئلہ ہی نہ ہوتا۔ جو اُسے قبول کرتا وہ بادشاہی میں داخل ہوتا۔ لیکن یہاں یشوعؔ / یسوعؔ فرماتا ہے کہ ہماری راستبازی فقیہوں اور فریسیوں کی راستبازی سے زیادہ ہونا ضرور ہے یعنی اُسکاا نحصارہماری قابلیت اور وفاداری پر ہے اور یہ کسی طور سے بغیر شرط کے نہیں ۔

راستبازی کی تعریف کیسے کی گئی ہے؟ اِستِثنا 6: 24۔25  “سو خُداوند نے ہم کو اِن سب احکام پر عمل کرنے اور ہمیشہ اپنی بھلائی کے لئے خُداوند اپنے خُدا کا خوف ماننے کا حُکم دِیا ہے تا کہ وہ ہم کو زِندہ رکھے جیسا آج کے دِن ظاہِر ہے۔اور اگر ہم اِحتیاط رکھیں کہ خُداوند اپنے خُدا کے حضُور اِن سب حُکموں کو مانیں جیسا اُس نے ہم سے کہا ہے تو اِسی میں ہماری صداقت ہو گی۔”

یہ ایک اورموضوع ہے جو کہ کلامِ مُقدّس میں بار ہا نظر آتا ہے ، اگر محض “یسوعؔ پر ایمان “لانے کے وسیلہ سے آسمان کی بادشاہی میں داخل ہُوا جاسکتا ہے ، جیسا کہ پادری صاحبان اور کلیسیائی رہنما سکھاتے ہیں ، یشوعؔ نے توایسا کچھ نہیں فرمایا۔ متّی 7: 21۔27   “جو مُجھ سے اَے خُداوند اَے خُداوند ! کہتے ہیں اُن میں سے ہر ایک آسمان کی بادشاہی میں داخِل نہ ہوگا مگر وہی جو میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلتا ہے ۔ اُس دِن بہتیرے مُجھ سے کہینگے اَے خُداوند اَے خُداوند ! کیا ہم نے تیرے نام سے نبوّت نہیں کی اور تیرے نام سے بدرُوحوں کو نہیں نِکالا اور تیرے نام سے بہت سے معجزے نہیں دِکھائے ؟ اُس وقت میں اُن سے صاف کہدُونگا کہ میری کبھی تُم سے واقفیت نہ تھی ۔ میرے پاس سے چلے جاؤ تُم جو میری شرِیعت پر نہیں چلتے ۔پس جو کوئی میری یہ باتیں سُنتا اور اُن پر عمل کرتا ہے وہ اُس عقلمند آدمی کی ماننِد ٹھہریگا جِس نے چٹان پراپنا گھر بنایا ۔ اور مینہ برسا اور پانی چڑھا اور آندھیاں چلےِں اور اُس گھر پر ٹکرّیں لگیں لیکن وہ نہ گِرا کیونکہ اُسکی بُنیاد چٹان پر ڈالی گئی تھی ۔ اور جو کوئی میری یہ باتیں سُنتا ہے اور اُن پر عمل نہیں کرتا وہ اُس بیوقُوف آدمی کی مانِند ٹھہریگا جِس نے اپنا گھر ریت پر بنایا ۔اور مینہ برسا اور پانی چڑھا اور آندھیاں چلیں اور اُس گھر کو صدمہ پہنچا یا اور وہ گھر گِر گیا اوربالکل برباد ہوگیا ۔ ہم اِن آیات میں دیکھتے ہیں کہ نیا یا تجدید شدہ عہد کسی بھی طور پر شرط کے بغیر نہیں یہ ہمارے اعمال کا مطالبہ کرتا ہے۔یہاں کِس قسمکے عمل کا مطالبہ کیا جارہا ہے؟ ضرور ہے کہ ہم یہوواہ ؔ (خُدا)کے احکام پر عمل کریں جو کہ اُسکے عہد کااظہارہے، ورنہ ہمیں دوبارہ طلاق دے دی جائیگی۔ یشوع ؔ دوبارہ آکر ہمارے اُن گناہوں کیلئے جان نہیں دیگا، جو ہم نے اُس کی پرستش اوربُت پرستی کو ملا کر سر زد کئے ہیں۔ جب میں بُت پرستی کی بات کرتا ہوں تو میرا مطلب اُن تمام دنیاوی رسُو مات سے ہے ، جو کہ تمام کلیسیاؤں نے گذشتہ2000برس سے اپنا رکھی ہیں۔ یہوواہؔ / یشوعؔ / یسوعؔ کی شریعت کو ترک کرکے آدمی کی بنائی رسُومات کو اپنانا جیسے ایسٹر (بُت پرستوں کی زرخیزی کی دیّوی) اور کرسمس (راس الجدی، سورج دیّوتا کا مُردوں میں سے جی اٹھنے کا دن، جو کہ ایسٹر کا شوہرتھا)۔ جو  سورج کے دن کے جُھوٹا   سبت ہے،  یہ تما م ہربُت پرست معاشرے میں چلتے آرہے ہیں۔ SUN-day

عاموسؔ نبی ہمیں اسرائیل ؔ کے گھرانے کے متعلق بتاتا ہے کہ کس طرح اُنہوں نے جُھوٹے سبتوں کو اپنایا ، اوراگر انہوں نے تو بہ نہ کی تو اِسکا نتیجہ کیا ہو گا؟ عاموس 6: 1۔12   “اُن پر افسوس جو صِیونؔ  میں باراحت اور کوہِستانِ(Brenton’s LXX Translation)  سامریہؔ میں بے فِکر ہیں یعنی رئیسِ اقوام کے شُرفا جِنکے پاس بنی اِسرائیل آتے ہیں ۔ تُم کلنہ تک جاکر دیکھو اور وہاں سے حماتِ اعظم تک سَیر کرو اور پھِر فِلستِیوں کے جاتؔ کو جاؤ۔ کیا وہ اِن مُملکتوں سے بہتر ہیں ؟ کیا اُنکی حدُود تُمہاری حدُود سے زیادہ وسیع ہیں ؟ تُم جو بُرے دِن کا خیال مُلتوی کرکے ظُلم کی کُرسی نزدیک کرتے ہواور جھُوٹے سبت اپناتے ہو ۔ جو ہاتھی دانت کے پلنگ پر لیٹتے اور چارپائیوں پر دراز ہوتے اور گلّہ میں سے برّوں کو اور طویلہ میں سے بچھڑوں کولے کرکھاتے ہو ۔اور رَباب کی آواز کے ساتھ گاتے اور اپنے لئے داؤد ؔ کی طرح موسیقی کے ساز ایجاد کرتے ہو ۔ جو پیالوں میں سے مَے پیتے اور اپنے بدن پر بہترین عِطرملتے ہو لیکن یو سُف ؔ کی شِکستہ حالی سے غمگین نہیں ہوتے ۔ اِسلئے وہ پہلے اسیروں کے ساتھ اسیر ہو کرجائینگے اور اُنکی عیش و نِشاط کاخاتمہ ہو جائیگا ۔ خُداوند خُدا نے اپنی ذات کی قسم کھائی ہے خُداوند ربُّ الافواج یوں فرماتا ہے کہ میں یعقُوب ؔ کی حشمت سے نفرت رکھتا ہُوں اور اُس کے قصروں سے مُجھے عداوت ہے ۔ اِسلئے میں شہر کو اُسکی ساری معمُوری سمیت حوالہ کردوُنگا ۔ بلکہ یوں ہو گا کہ اگر کِسی گھر میں دس آدمی باقی ہونگے تو وہ بھی مرجائینگے ۔اور جب کِسی کا رشتہ دار جو اُسکو جلاتا ہے اُسے اُٹھائیگا تا کہ اُسکی ہڈیوں کو گھر سے نِکالے اور اُس سے جو گھر کے اندرہے پُو چھیگا کیا کوئی اَور تیرے ساتھ ہے؟ تو وہ جواب دیگا کوئی نہیں ۔ تب وہ کہیگا چُپ رہ ۔ ایسا نہ ہوکہ خُداوند کے نام کا ذِکر کریں ۔ کیونکہ دیکھ خُداوند نے حُکم دے دِیا ہے اور بڑے بڑے گھر رخنوں سے اور چھوٹے شِگافوں سے برباد ہونگے ۔ کیا چٹانوں پر گھوڑے دَوڑینگے یا کوئی بیلوں سے وہاں ہل چلائیگا؟ تو بھی تُم نے عدالت کو اندراین اور ثمرۂِ صداقت کو ناگدَونا بنا رکھا ہے ۔” ہم دیکھتے ہیں کہ اسرائیل ؔ کے گھرانے نے جھوٹے سبت اپنا لئے اوردوبارہ ایسا کرنے پر سزا دی جائیگی۔ کیا یشوعؔ نے کبھی بتایا کہ وہ کسے نجات دینے آیا ہے؟ کیا اُس نے یہ فرمایا کہ میں غیر قوم کی کلیسیاکیلئے آیا ہوں اور یہ بھی کہ وہ کوئی نیا مذہب بنائیگا؟ کیا کبھی کسی نبی نے یہ ذِکر کیا کہ یہ عہد غیر قوم کی کلیسیا سے کیا جائیگا؟ جی نہیں! تو پھر یشوعؔ کسے نجات دینے آیا؟ متی15: 22۔28    “پھر یسوعؔ وہاں سے نکل کر صورؔ اور صیدا ؔ کے علاقہ کو روانہ ہوا۔ اور دیکھو ایک کنعانی عورت اُن سرحدوں سے نکلی اور پکار کر کہنے لگی اے خُداوند ابنِ داؤدؔ مجھ پر رحم کر ۔ ایک بدرُوح میری بیٹی کو بُری طرح ستاتی ہے۔ مگر اُس نے اُسے کچھ جواب نہ دیا اور اُس کے شاگردوں نے پاس آکر اُس سے یہ عرض کی کہ اُسے رُخصت کر دے کیونکہ وہ ہمارے پیچھے چلاتی ہے۔ اُس نے جواب میں کہا کہ میں اسرائیلؔ کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔ مگر اُس نے آکر اُسے سجدہ کیا اور کہا اے خُداوند میری مدد کر ۔ اُس نے جواب میں کہا لڑکوں کی روٹی لیکر کُتوں کو ڈال دینا اچھا نہیں ۔ اُس نے کہا ہاں خُداوند کیونکہ کتے بھی اُن ٹکڑوں میں سے کھاتے ہیں جو اُنکے مالکوں کی میز سے گرتے ہیں ۔ اِس پر یسوعؔ نے جواب میں اُس سے کہا اے عورت تیرا ایمان بہت بڑا ہے ۔ جیسا تو چاہتی ہے تیرے لئے ویسا ہی ہو اور اُس کی بیٹی نے اُسی گھڑی شفا پائی۔” یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ یشوع ؔ واضح طور پر فرماتا ہے کہ وہ صرف اسرائیلؔ کے گھرانے کی طرف بھیجا گیا ۔ جسے اُس نے بُت پرستانہ رسُومات کویہوواہؔ/ یشوعؔ / یسوعؔ کی پرستش سے خلط ملط کرنے اور حرامکاری کی وجہ سے طلاق دیدی تھی، وہ اُنہیں اُن قوانین سے آزاد کرانے نہیں آیا جنکے بارے میں اُس نے خود فرمایا کہ اِن میں برکات پنہا ہیں۔ بلکہ اُس لعنت سے جوکہ حرامکاری کے ذریعے شریعت توڑنے /رَد کرنے کی وجہ سے ہوئی ۔ توریت / شریعت صرف اُس وقت لعنت لاتی ہے جب اُس پر عمل نہ کیا جائے۔ استثنا 11: 26۔28    “دیکھو میں آج کے دن تمہارے آگے برکت اور لعنت دونوں رکھے دیتا ہوں۔ برکت اُس حال میں جب تم خُداوند اپنے خُدا کے حکموں کو جو آج میں تم کو دیتا ہوں مانو ۔ اور لعنت اُس وقت جب تم خُداوند اپنے خُدا کی فرمانبرداری نہ کرو اور اُس راہ کو جسکی بابت میں آج تم کو حکم دیتا ہوں چھوڑ کر اور معبودوں کی پیروی کرو جن سے تم اب تک واقف نہیں۔” ہمیں حرامکاری کی لعنت کی سزاسے رہائی دی گئی ہے نہ کہ یہوواہؔ / یشوعؔ /یسوعؔ کی شریعت / توریت سے۔یہی بات پولُس ؔ رسُول بتاتا ہے جب وہ یہ کہتا ہے: گلتیوں 3: 10۔13   ” کیونکہ جتنے شریعت کے اعمال پر تکیہ کرتے ہیں وہ سب لعنت کے ماتحت ہیں۔ چنانچہ لکھا کہ جو کوئی اُن سب باتوں کے کرنے پر قائم نہیں رہتا جو شریعت کی کتاب میں لکھی ہیں وہ لعنتی ہے۔ اور یہ بات ظاہر ہے کہ شریعت کے وسیلہ سے کوئی شخص خُدا کے نزدیک راستباز نہیں ٹھہرتا کیونکہ لکھا ہے کہ راستباز ایمان سے جیتا رہیگا اور شریعت کو ایمان سے کچھ واسطہ نہیں بلکہ لکھا ہے کہ جس نے اِن پر عمل کیا وہ اِن کے سبب سے جیتا رہیگا۔ مسیح جو ہمارے لئے لعنتی بنا اُس نے مول لیکر شریعت کی لعنت سے چھڑایا کیونکہ لکھا ہے کہ جو کوئی لکڑی پر لٹکایا گیا وہ لعنتی ہے۔” اُس نے ہمیں حرامکاری کی سزا کی لعنت سے چھڑایا ، تاکہ ہم ایک بار پھر اُس کے عہد میں شریک ہوسکیں ۔ ہم نے پلپٹ پر سے کئی بار یہ پیغام سنا کہ شریعت لعنت ہے، یا پھر یہ غلامی ہے، اِسکی پیروی کرناگناہ ہے، یہ موت لاتی ہے، یا پھر اس پر چلنا ناممکن ہے ۔ ایک مرتبہ پھر ، یہ سب بیانات اِن تمام باتوں اور پولُسؔ رسُول کی باتوں کی غلط تشریحات ہیں جوکہ کلامِ مُقدّس، یہوواہؔ / یشوعؔ / یسوعؔ کی توریت کے متعلق بیان کرتا ہے۔ ہم کلامِ مقدس میں ہر جگہ یہ پائیں گے کہ شریعت /توریت کی پیروی کرنا ہی زندگی ہے لیکن اِس کی نافرمانی لعنت اور موت ہے۔ ایسے تمام خادمین آپ کی غلط رہنمائی کررہے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اِنسان کی بنائی ہو ئی رسُومات پہ چلنا ٹھیک ہے ،چاہے وہ غلطی سے ہو یا جان بوجھ کر،یہ سب آپ کو یہوواہؔ / یشوعؔ /یسوعؔ کی تعلیمات سے دُور کرنا چاہتے ہیں۔ جھوٹے سبت اوربُت پرستانہ رسم و رواج، اِن تمام باتوں کی پیشگوئی ہوچکی ہے۔ مزید جاننے کیلئے کہ بائبل مقدس کے مطابق نہ کہ پادری

صاحبان کے

“Discerning False Prophets”مطابق، درحقیقت جھوٹے نبی کون ہیں ہماری تعلیم ملاحظہ فرمائیے

“عہدِ جدید” کے صحائف ہمیں بتاتے ہیں کہ برکات توریت / شریعت/ قوانین پر عمل کرنے سے آتی ہیں۔    “مبارک ہیں وہ جو راستبازی کے بھوکے اور پیاسے ہیں(شریعت کی پیروی استثناء 6:25) کیونکہ وہ آسودہ ہونگے۔” متی5: 6 یوحنا13: 12۔17   “پس جب وہ اُنکے پاؤں دھو چکا اور اپنے کپڑے پہن کر پھر بیٹھ گیا تو اُن سے کہا کیا تم جانتے ہو کہ میں نے تمہارے ساتھ کیا کِیا؟ تم مجھے اُستاد اور خُداوند کہتے ہو اور خوب کہتے ہو کیونکہ میں ہوں ۔ پس جب مجھ خُداوند اور اُستاد نے تمہارے پاؤں دھوئے تو تم پر بھی فرض ہے کہ ایک دوسرے کے پاؤں دھویا کرو۔ کیونکہ میں نے تم کو ایک نمونہ دکھایا ہے کہ جیسا میں نے تمہارے ساتھ کیا ہے تم بھی کیا کرو ۔ میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ نوکر اپنے مالک سے بڑا نہیں ہوتا اور نہ بھیجا ہوا اپنے بھیجنے والے سے  اگر تم اِن باتوں کو جانتے ہو تو مبارک ہو بشرطیکہ اُن پر عمل بھی کرو ۔” مکاشفہ 22: 14۔16  “مبارک ہیں وہ جو اپنے جامے دھوتے ہیں کیونکہ زندگی کے درخت کے پاس آنے کا اختیار پائیں گے اور اُن دروازوں سے شہر میں داخل ہونگے۔ مگر کتے اور جادوگر اور حرامکار اور خونی اور بُت پرست اور جھوٹی بات کا ہر ایک پسند کرنے اور گھڑنے والا باہر رہیگا۔ مجھ یسوعؔ نے اپنا فرشتہ اِسلئے بھیجا کہ کلیسیاؤں کے بارے میں تمہارے آگے اِن باتوں کی گواہی دے۔ میں داؤدؔ کی اصل و نسل اور صبح کا چمکتا ہوا ستارہ ہوں ۔” یعقوب 1: 22۔25  “لیکن کلام پر عمل کرنے والے بنو نہ محض سننے والے جو اپنے آپ کو دھوکا دیتے ہیں۔ کیونکہ جو کوئی کلام کا سننے والا ہو اور اُس پر عمل کرنے والا نہ ہو وہ اُس شخص کی مانند ہے جو اپنی قدرتی صورت آئینہ میں دیکھتا ہے۔ اسلئے کہ وہ اپنے آپ کو دیکھ کر چلا جاتا اور فوراً بھول جاتا ہے کہ میں کیسا تھا۔ لیکن جو شخص آزادی کی کامل شریعت پر غور سے نظر کرتا رہتا ہے وہ اپنے کام میں اِسلئے برکت پائیگا کہ سُن کر بھولتا نہیں بلکہ عمل کرتا ہے ۔” یعقوبؔ توریت/ شریعت کو آزادی کی کامل شریعت کہتا ہے، وہ اسے غلامی نہیں کہتا ، نہ ہی گناہ ، بدی ، پرانی اور بوسیدہ یا کہ لعنت ۔ وہ اُسے کاملیت اور آزادی کہتا ہے ۔ داؤدؔ بادشاہ بھی اُس کے ساتھ ہم آواز ہے ۔ زبور19: 7۔14   “خُداوند کی شریعت کامل ہے۔ وہ جان کو بحال کرتی ہے ۔ خُداوند کی شہادت برحق ہے ۔ نادان کو دانش بخشتی ہے۔ خُداوند کے قوانین راست ہیں ۔ وہ دل کو فرحت پہنچاتے ہیں۔ خُداوند کا حکم بے عیب ہے ۔ وہ آنکھوں کو روشن کرتا ہے ۔ خُداوند کا خوف پاک ہے ۔ وہ ابد تک قائم رہتا ہے ۔ خُداوند کے احکام برحق اور بالکل راست ہیں ۔ وہ سونے سے بلکہ بہت کندن سے زیادہ پسندیدہ ہیں۔ وہ شہد سے بلکہ چھتے کے ٹپکوں سے بھی شیرین ہیں۔ نیز اُن سے تیرے بندے کو آگاہی ملتی ہے۔ اُن کو ماننے کا اَجر بڑا ہے ۔ کون اپنی بھول چُوک کو جان سکتا ہے؟ تو مجھے پوشیدہ عیبوں سے پاک کر ۔ تو اپنے بندے کو بے باکی کے گناہوں سے بھی باز رکھ ۔ وہ مجھ پر غالب نہ آئیں تو میں کامل ہونگا۔ اور بڑے گناہ سے بچا رہونگا۔ میرے منہ کا کلام اور میرے دل کا خیال تیرے حضور مقبول ٹھہرے۔ اے خُداوند! اے میری چٹان اور میرے فدیہ دینے والے!۔” زبور119: 44۔47    “پس میں ابداُلآباد تیری شریعت کو مانتا رہونگا ۔ اور میں آزادی سے چلونگا کیونکہ میں تیرے قوانین کا طالب رہا ہوں۔ میں بادشاہوں کے سامنے تیری شہادتوں کا بیان کرونگا اور شرمندہ نہ ہونگا ۔ تیرے فرمان مجھے عزیز ہیں ۔ میں اُن میں مسرُور رہونگا۔” لہٰذا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ یہوواہ ؔ کے قوانین کی اتنی درد ناک منظر کشی کی گئی کہ دورِ حاضر کی کلیسیا کے رہنماؤں کی جانب سے یہ تمام نظریات بنالئے گئے ؟ ایسا لگتا ہے کہ جب جب میں نے باپ کے قوانین کی پیروی کا بیان کیاتو دوسری طرف ہر دفعہ ایک پادری موجودہوتا ہے جو کہ پولُسؔ رسُول کی باتوں کو توڑ مروڑ کر یہ بیان کرتا ہے کہ شریعت ایک لعنت ہے ، گناہ ہے ، بوجھ ہے اور ایسی کئی اور باتیں۔ یہ انتہائی خطرناک حالت ہے ، اور مقدس پطرسؔ رسُول خصوصاً اِس بارے میں ہمیں خبردارکرتا ہے ۔ 2۔پطرس 3: 15۔18  “اور ہمارے خُداوند کے تحمل کو نجات سمجھو۔ چنانچہ ہمارے پیارے بھائی پولُسؔ نے بھی اُس حکمت کے موافق جو اُسے عنایت ہوئی تمہیں یہی لکھا ہے۔ اور اپنے سب خطوں میں اِن باتوں کا ذکر کیا ہے جن میں بعض باتیں ایسی ہیں جنکا سمجھنا مشکل ہے جاہل اور بے قیام لوگ اِن کے معنوں کوبھی اور صحیفوں کی طرح کھنچ تان کر اپنے لئے ہلاکت پیدا کرتے ہیں ۔ پس اے عزیزو! چونکہ تم پہلے سے آگاہ ہو اسلئے ہوشیار رہو تاکہ بے دینوں کی گمراہی کی طرف کھنچ کر اپنی مضبوطی کو چھوڑ نہ دو ۔ بلکہ ہمارے خُداوند اور منجی یسوعؔ مسیح کے فضل اور عرفان میں بڑھتے جاؤ۔ اُسی کی تمجید اب بھی ہو اور ابد تک ہوتی رہے۔” پطرسؔ رسُول ہمیں تنبیہ کرتا ہے کہ پولُسؔ کے خطوط میں ایسی باتوں کا بیان ہے جنکا سمجھنا مشکل ہے اور یہ کہ جاہل اور بے قیام لوگ اُن کو توڑ مروڑ دیتے ہیں اور اِسکا نتیجہ بے دینی ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر ہمیں غالب آنے کی ضرورت ہے ، کیونکہ مسیح کے% 95 پیروکار اِسی زُمرے میں آتے ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اکثریت تباہ کُن حدتک غلط ہو؟ کیا یہ ممکن ہے کہ آج کے زیادہ تر مسیحی نجات کی اُمید کا غلط مطلب لیتے ہیں اورانتہائی خطرناک باڑھ میں پھنسے ہیں اور بہت جلد ڈوب جانے والے ہیں؟

متی 7: 13۔14   “تنگ دروازہ سے داخل ہو کیونکہ وہ دروازہ چوڑا ہے اور وہ راستہ کشادہ ہے جو ہلاکت کو پہنچاتا ہے اور اُس سے داخل ہونے والے بہت ہیں ۔ کیونکہ وہ دروازہ تنگ ہے اور وہ راستہ سکڑا ہے جو زندگی کو پہنچاتا ہے اور اُس کے پانے والے تھوڑے ہیں

مزید معلومات کیلئے 119 منسٹریز کی تعلیم بنام “The Error of Dispensationalism”“The Pauline Padadox: Ist he Majority ever Wrong” ملاحظہ فرمائیے۔ اب ہم اِس سوال کا جواب دے چکے ہیں ، کہ’’ برکات کہاں سے آتی ہیں؟‘‘۔ اور اب میں اُمید کرتا ہوں کہ وہ لوگ جو یہ سوال کرتے ہیں دیکھ سکتے ہیں کہ اُن پر برکات کا نزول کیوں نہیں ہورہا۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا کہ یشوعؔ کوئی نیا نظریہ نہیں لایا اورنہ ہی اُس نے کوئی نیا مذہب ایجاد کیا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بُت پرستانہ رسُومات کو یہوواہؔ / یشوعؔ / یسوعؔ کی پرستش کے ساتھ ملانے کے سبب سے ہم دوبارہ طلاق کے خطرے میں ہیں، ہم نے یہ بھی دیکھا کہ اگر ہم اِن جھوٹے سبتوں سے توبہ نہیں کرتے جو کہ اسرائیل ؔ کے گھرانے (مسیحیوں) نے اپنا رکھے ہیں ، تو ہمیں سزا دی جائیگی، اور ممکن ہے کہ ہمیں یہوواہؔ کی اُمت سے کاٹ ڈالا جائے۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ یہ عہد نئی قوم یا کسی نئی کلیسیا کے ساتھ نہیں باندھا گیا ۔تو پھر غیر قوموں کا اِس سب میں کیا کردار ہے؟ کیونکہ غیر قومیں بھی بالکل اُسی طریقے سے بچائی گئیں جسطرح اسرائیلؔ کا گھرانہ بچایا گیا، اِسلئے ضرور ہے کہ وہ یشوعؔ کو بطور مسیح خُداوند اور اپنا نجات دہندہ قبول کرکے اُس کی توریت/ شریعت آئین پر چلنا سیکھیں۔ اِسلئے جب وہ فسح کے برّہ کو قبول کرکے اُس کی پاکیزگی میں شامل ہونگے ، تو وہ اسرائیل ؔ کے گھرانے میں پیوند ہوجائیں گے۔ شروع سے یہی نظام رہا ہے اور مسیح کی صلیب کے بعد کوئی نیا نظام رائج نہیں ہوا۔ خروج  12: 48۔49   “اگر کوئی اجنبی (غیر قوم ) تیرے ساتھ مقیم ہو اور خُداوند کی فسح کو ماننا چاہتا ہو تو اُس کے ہاں کے سب مرد اپنا ختنہ کرائیں ۔ تب وہ پاس آکر فسح کرے ۔ یوں وہ ایسا سمجھا جائیگا گویا اُسی ملک کی پیدایش ہے پر کوئی نامختون آدمی اُسے کھانے نہ پائے۔ وطنی اور اجنبی کیلئے جو تمہارے بیچ مقیم ہو ایک ہی شریعت ہوگی۔” رسُولوں نے بھی اِسی نظریہ کی گواہی دی۔ افسیوں 2: 10۔13   “کیونکہ ہم اُسی کی کاریگری ہیں اور مسیح یسوعؔ میں اُن نیک اعمال کے واسطے مخلوق ہوئے جنکو خُدا نے پہلے سے ہمارے کرنے کے لئے تیار کیا تھا ۔ پس یاد کرو کہ تم جو جسم کی رُو سے غیر قوم والے ہو اور وہ لوگ جو جسم میں ہاتھ سے کئے ہوئے ختنہ کے سبب سے مختون کہلاتے ہیں تم کو نا مختون کہتے ہیں۔ اگلے زمانہ میں مسیح سے جُدا اور اسرائیلؔ کی سلطنت سے خارج اور وعدہ کے عہدوں سے نا واقف اور نا اُمید اور دُنیا میں خُدا سے جُدا تھے۔ مگر تم جو پہلے دُور تھے اب مسیح یسوعؔ میں مسیح کے خون کے سبب سے نزدیک ہوگئے ہو۔” 1۔ کرنتھیوں11: 23۔26  “کیونکہ یہ بات مجھے خُداوند سے پہنچی اور میں نے تم کو بھی پہنچا دی کہ خُداوند یسوعؔ نے جس رات وہ پکڑویا گیا۔ روٹی لی اور شکر کرکے توڑی اور کہا یہ میرا بدن ہے جو تمہارے لئے ہے ۔ میری یادگاری کے واسطے یہی کیا کرو۔ اِسی طرح اُس نے کھانے کے بعد پیالہ بھی لیا اور کہا یہ پیالہ میرے خون میں نیا عہد ہے۔جب کبھی پیو میری یادگاری کیلئے یہی کیا کرو ۔ کیونکہ جب کبھی تم یہ روٹی کھاتے اور اِس پیالے میں سے پیتے ہو تو خُداوند کی موت کا اظہار کرتے ہو جب تک وہ نہ آئے۔” میں یہاں خُداند کی محبت میں سچائی کو بیان کررہا ہوں ، اور آپ کو یہ احساس دلانا چاہتا ہوں کہ اگر آپ اب بھی اُن لوگوں میں شامل ہیں  جو کہ جھوٹے سبتوں ،بُت پرستانہ رسم و رواج کو مانتے ، اور جان بوجھ کر یہوواہؔ /یشوعؔ / یسوع کی توریت/ شریعت کے آئین کے خلاف چلتے ہیں اور آپ نے روحانی حرامکاری کرکے اُسکے عہد کو توڑنے کا جرم کیا ہے ۔ تو آپ دوبارہ طلاق یافتہ ہونے اور یہوواہؔ کی اُمت سے کاٹ ڈالے جانے کے خطرے میں ہیں۔ ابھی تک آپ کو طلاق نامہ جاری نہیں ہوا ، آپ اپنے گناہوں سے توبہ کرکے خُداوند کے عہد کی شریعت/ توریت پر چل سکتے ہیں۔ پھر آپ کو گناہوں سے معافی مل سکتی ہے۔ ضرور ہے کہ آپ آدمیوں کی بنائی ہوئی تعلیمات اور رسُومات کو ترک کرکے صرف یہوواہؔ / یشوعؔ / یسوعؔ کی توریت/ شریعت/ آئین پر عمل کریں ۔ پھر یہ بھی ضروری ہے کہ آپ آدمیوں کے بنائے ہوئے مذاہب اور رسم و رواج سے باہر نکل آئیں جن کے ساتھ آپکاکو ئی تعلق نہیں۔ جب آپ اِن رسومات کو ترک کر کے توبہ کریں گے، تو آپ اُن تمام برکات کوحاصل کرنا شروع کردیں گے جنکے لئے آپ لمبے عرصے سے گڑ گڑاتے رہے ہیں اور یہوواہؔ آپ کو پاک بوسے سے خوش آمدیدبھی کہے گا۔ چونکی ہم برگشتہ ہوگئے اور سب نے گناہ کیا، اسلئے ضرور ہے کہ ہم سب توبہ کریں کیونکہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ ہر جگہ پر تمام لوگ توبہ کریں۔ مُبادا زمین ملعُون ٹھہرے ۔ اَب آپ کے پاس سچائی کی مکمل آگاہی ہے ۔ لہٰذا میں آپ کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ اِس سچائی کو ترک کر کے بے دینی کی ناراستی میں رہے ، تو آپ کے گناہ کا کوئی علاج نہیں ہوگا۔ عبرانیوں 10: 26۔31   “کیونکہ حق کی پہچان حاصل کرنے کے بعد اگر ہم جان بوجھ کر گناہ کریں تو گناہوں کی کو ئی اور قربانی باقی نہیں رہی۔ہاں عدالت کا ایک ہَولناک انتظار اور غضبناک آتش باقی ہے جو مخالفوں کو کھالیگی۔جب موسیٰ کی شرِیعت کا نہ ماننے والا دویا تین شخصوں کی گواہی سے بغیر رحم کئے مارا جاتا ہے۔ تو خیا ل کرو کہ وہ شخص کس قدر زیادہ سزا کے لائق ٹھہرے گا جس نے خُدا کے بیٹے کو پامال کیا اور عہد کے خون کو جس سے وہ پاک ہُوا تھا ناپاک جانا اور فضل کے رُوح کو بے عزت کیا ۔کیونکہ اُسے ہم جانتے ہیں جس نے فرمایا کہ اِنتقام لینا میرا کام ہے ۔ بدلہ مےَں ہی دُونگا اور پھر یہ کہ خُداوند اپنی اُمت کی عدالت کرے گا ۔ زند ہ خُدا کے ہاتھوں میں پڑنا ہَولناک بات ہے ۔” اُن تمام حضرات کیلئے جنہوں نے اِس مضمون کو پڑھا ہے ، اور چاہتے ہیں کہ وہ اُن برکات کو حاصل کریں جنکا وعدہ کیا گیا ،ساتھ ہی  یہاں میں یہوواہؔ کے ساتھ نئے سفر کے آغاز میں سُنہری باتیں کہنا چاہتا ہوں۔ عبرانی زبان میں الفاظ دو حصوں پر مشتمل ہیں ۔ کسی لفظ کا پہلا اور آخری حرف ہی اُس لفظ کی شکل ہے ، جو کچھ پہلے اور آخری حرف کے درمیان ہے وہی اُس لفظ کا دل ہے ،اسلئے کہ یشوعؔ کلامِ خُدا ہے ۔ مکاشفہ 22: 12۔13 “دیکھ میَں جلد آنے والا ہُوں اور ہر ایک کے کام کے مُوافق دینے کے لئے اَجر میرے پاس ہے ۔ میَں الفا اور اومیگا ۔ اوّل و آخر ۔ ابتدا و انتہا ہُوں ۔” یشوعؔ فرماتا ہے کہ وہ الفا اور اومیگا ، اول و آخر ہے، یہ یونانی حروفِ تہجی کے پہلے اور آخری حروف ہیں ۔یشوعؔ یہودی تھا اور عبرانی زبان بولتا تھا۔ لہٰذا جو کچھ اُس نے فرمایا وہ یہ تھا کہ میَں آلف اور تاو ہوں ۔ وہ کلامِ مجسم ہے اورکلام کے پہلے اور آخری حرف کے درمیان ہر جگہ اُسکا بیان ہے۔ ہمیں بائبل مُقدّس میں صرف ایک ہی ایسامقام ملتا ہے جسکا آغاز عبرانی حرف آلف سے ہوتا ہے اور اختتام تاوپر اور وہ حصہ زبور 119ہے ۔ اِس میں عبرانی کے ہر حرف سے شروع ہونے والی آٹھ آیات موجود ہیں، جس سے یہ پورا باب مکمل ہوتا ہے۔ آپ کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ داؤد کیوں ایسا شخص کہلایا جو ’’خُدا کے دل کے مطابق ‘‘ ٹھہرا۔یہ جاننے کے لئے زبور 119 کا مطالعہ کیجئے ۔ توریت / شریعت کا پہلا حرف بیتھ ہے، اور آخری حرف لامد ہے۔ یہ الفاظ مل کر عبرانی لفظ  לב لامد بیتھ بناتے ہیں ، جو کہ عبرانی میں دل کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ اس تعلیم کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر آپ یہوواہؔ / یشوعؔ/ یسوعؔ کی شریعت کو توڑتے ہیں تو آپ اُسکی دِل آزاری کرتے ہیں۔

زبور119: 136  “میری آنکھوں سے پانی کے چشمے جاری ہیں ۔ اِسلئے کہ لوگ تیری شریعت کو نہیں مانتے ۔”   مکاشفہ 22: 12۔17 “دیکھ میَں جلد آنے والا ہُوں اور ہر ایک کے کام کے مُوافق دینے کے لئے اَجر میرے پاس ہے ۔ میَں الفا اور اومیگا ۔ اوّل و آخر ۔ ابتدا و انتہا ہُوں ۔مُبارک ہیں وہ جو اپنے جامے دھوتے ہیں کیونکہ زندگی کے درخت کے پاس آنے کا اختیار پائینگے اور اُن دروازوں سے شہر میں داخل ہونگے ۔ مگر کتے اور  جادوگر اور حرامکار اور خُونی اور بُت پرست اور جھوٹی بات کا ہر ایک پسند کرنے اور گھڑنے والا باہر رہیگا۔ مجھ یسوعؔ نے اپنا فرشتہ اِسلئے بھیجا کہ کلیسیاؤں کے بارے میں تمہارے آگے اِن باتوں کی گواہی دے۔ میَں داؤدؔ کی اصل و نسل اور صبح کا چمکتا ہوا ستارہ ہوں ۔اور رُوح اور دُلہن کہتی ہیں آاور سُننے والا بھی کہے آ۔اور جو پیا سا ہو وہ آئے اور جو کوئی چاہے آبِ حیات مُفت لے۔ ” اُن سب پر جوتنبیہ سے گھبراتے نہیں ،برکات کا نزول ہوتا رہے۔ ہاشیم یشوعؔ  آمین! آمین!

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s